ہمیں توآتے جاتے ہی ملا ہے جب بھی دیکھا ہے
یہ روزانہ کا جھونکا کیا پتہ کتنا پرانا ہے
Related posts
-
شہید یار جنگ
ایک سجدہ علی کا باقی تھا ختم کردی حسین نے وہ نماز -
سیماب اکبر آبادی
سجاد اسیرِ جور ہوئے افسوس کسی نے یہ نہ کہا یہ پاؤں ستونِ کعبہ ہیں زنجیر... -
صبا اکبر آبادی
اُس بارگاہِ ناز کا اعجاز دیکھنا میں چپ رہا تو دستِ دعا بولنے لگے
